صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۹ - سودہ رضی اللہ عنہا کی باری عائشہ کو
سودہ رضی اللہ عنہا کا اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دینا
صحیح مسلم : ۳۶۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۲۹
حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ فِي مِسْلَاخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ مِنَ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَّةٌ ، قَالَت : " فَلَمَّا كَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ ، قَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ ، يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ " ،
عائشہ روایت:
میں نے کسی عورت کو ایسا نہیں دیکھا کہ آرزو کرتی میں اس کے جسم میں ہونے کی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر۔ وہ ایک ایسی عورت تھیں کہ ان کے مزاج میں بڑی تیزی تھی پھر جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی اور عرض کی یا رسول اللہ! میں نے اپنی باری عائشہ کو دی سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس دو روز رہتے ایک ان کے دن ایک سودہ رضی اللہ عنہا کے دن میں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتی ہیں۔ روایت کے مطابق جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے اپنی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، میں نے اپنی باری عائشہ کو دے دی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس دو دن رہتے، ایک ان کے اپنے دن میں اور ایک سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے دن میں۔ اس حدیث کا اصل موضوع باری ہبہ کرنا، ازواج کی باری، اور بیوی کے اختیار سے متعلق ہے۔ متن سے یہی سمجھ آتا ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری خود دی، اور اسی کے مطابق عمل ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دی۔
- باری دینے کا عمل روایت میں صاف الفاظ میں آیا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے دو دن رکھے، ایک اپنا اور ایک سودہ کا۔
- گھریلو حق کے معاملے میں بیوی کے بیان کو اہمیت دی گئی۔
