صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۳ - جنازہ میں نرمی اور ازواج کی باری

ام المؤمنین کے جنازے میں نرمی اور ازواج کی باری کا ذکر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۳۳

حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ ، فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " هَذِهِ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا ، فَلَا تُزَعْزِعُوا وَلَا تُزَلْزِلُوا وَارْفُقُوا ، فَإِنَّهُ كَانَ عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تِسْعٌ فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ " ، قَالَ عَطَاءٌ : الَّتِي لَا يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ ،

عطاء روایت:

ہم حاضر ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ سرف میں جنازہ پر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جو بی بی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ خیال رکھو یہ بی بی صاحبہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھر جب تم ان کے جنازہ مبارک اٹھانا تو ہلانا ڈلانا نہیں اور بہت نرمی سے لے کر چلنا اور بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیبیاں تھیں اور ان میں سے آٹھ کے لئے باری مقرر تھی اور ایک کے لئے نہیں اور عطاء نے کہا کہ وہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ سرف میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں حاضر ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں۔ پھر ہدایت دی کہ جب ان کا جنازہ اٹھاؤ تو اسے ہلاؤ جلاؤ نہیں، بلکہ نرمی سے لے کر چلو۔ اسی روایت میں یہ بھی آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں، آٹھ کے لیے باری مقرر تھی اور ایک کے لیے نہیں۔ عطاء رحمہ اللہ نے بتایا کہ جس کے لیے باری نہیں تھی وہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا تھیں۔ اس حدیث میں جنازہ میں نرمی، امہات المؤمنین کا احترام، اور ازواج کی باری کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے کو نرمی سے لے جانے کی ہدایت دی گئی۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کا احترام یاد دلایا گیا۔
  • روایت میں نو ازواج اور آٹھ کی باری کا ذکر ہے۔
  • جنازے کے معاملے میں سختی نہیں بلکہ نرمی اختیار کرنے کا بیان ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں