صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۲ - عورت کا خود کو ہبہ کرنا
عورت کا اپنے آپ کو ہبہ کرنا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال
صحیح مسلم : ۳۶۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۳۲
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : " أَمَا تَسْتَحْيِي امْرَأَةٌ تَهَبُ نَفْسَهَا لِرَجُلٍ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51 ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ " .
وہی مضمون ہے اس کے سرے پر یہ ہے کہ عورت شرم نہیں کرتی کہ ہبہ کرتی ہے اپنی جان کسی مرد کے لیے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ آئے ہیں کہ کیا عورت شرم نہیں کرتی کہ اپنی جان کسی مرد کے لیے ہبہ کرتی ہے۔ پھر اللہ عزوجل نے آیت نازل فرمائی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اختیار کا ذکر ہے کہ آپ جسے چاہیں مؤخر کریں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں۔ اس کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ جملہ کہا جو روایت میں نقل ہوا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع ہبہ نفس اور آیت احزاب کا بیان ہے۔ ہمیں یہاں اپنی طرف سے کوئی نیا حکم یا واقعہ شامل نہیں کرنا چاہیے۔ متن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال، آیت کا نزول، اور ان کا تبصرہ موجود ہے۔ یہی اس روایت کا دائرہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورت کے ہبہ نفس پر سوال کیا۔
- روایت میں آیت احزاب کے نزول کا ذکر ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کا بیان آیت کے الفاظ میں آیا ہے۔
- حدیث کو اسی مضمون تک محدود سمجھنا چاہیے جو متن میں موجود ہے۔
