صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۸ - ازواج کی باری اور گھریلو ادب
ازواج کی باری اور گھر کے ادب کا واقعہ
صحیح مسلم : ۳۶۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۲۸
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حدثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ ، فَكَانَ إِذَا قَسَمَ بَيْنَهُنَّ لَا يَنْتَهِي إِلَى الْمَرْأَةِ الْأُولَى ، إِلَّا فِي تِسْعٍ ، فَكُنَّ يَجْتَمِعْنَ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي بَيْتِ الَّتِي يَأْتِيهَا " ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَجَاءَتْ زَيْنَبُ ، فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا ، فقَالَت : هَذِهِ زَيْنَبُ ، فَكَفَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَتَقَاوَلَتَا ، حَتَّى اسْتَخَبَتَا وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ عَلَى ذَلِكَ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُمَا ، فقَالَ : اخْرُجْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَى الصَّلَاةِ وَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت عَائِشَةُ : الْآنَ يَقْضِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ فَيَجِيءُ أَبُو بَكْرٍ ، فَيَفْعَلُ بِي وَيَفْعَلُ ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَاتَهُ أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ ، فقَالَ لَهَا قَوْلًا شَدِيدًا ، وَقَالَ : أَتَصْنَعِينَ هَذَا .
انس روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیبیاں تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان میں باری کرتے تھے تو پہلی بیوی کے پاس نویں دن تشریف لاتے تھے اور بیبیوں کا قاعدہ تھا کہ جس کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تھے اس کے گھر جمع ہوتی تھیں۔ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے اور بی بی زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا اور انہوں نے عرض کی کہ زینب ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچ لیا۔ اور بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا اور زینب رضی اللہ عنہا کے بیچ تکرار ہونے لگی۔ یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں اور نماز کی تکبیر ہو گئی۔اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے قریب سے گزرے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ نماز کو نکلیے اور ان کے منہ میں خاک ڈالیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکیں گے تو ابوبکر رضی اللہ عنہا آ کر ایسا ویسا خفا ہوں گے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان کو بہت سخت سست کہا اور فرمایا: کہ تو ایسا کرتی ہے (یعنی حضور کے آگے چیختی اور آواز بلند کرتی ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں باری کرتے تو پہلی بیوی کے پاس نویں دن آتے۔ ازواج کا یہ معمول بھی بیان ہوا کہ جس کے گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے، وہ سب اس گھر میں جمع ہوتی تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے، زینب رضی اللہ عنہا آئیں، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا اور زینب رضی اللہ عنہا کے درمیان بات بڑھ گئی، یہاں تک کہ آوازیں بلند ہوئیں اور نماز کی تکبیر ہوگئی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے نکلنے کو کہا۔ اس روایت میں باری کی تقسیم، گھریلو گفتگو، اور نماز کے وقت کی اہمیت سامنے آتی ہے، مگر واقعہ کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جو متن میں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ازواج کے درمیان باری کا نظام باقاعدہ تھا۔
- گھر میں اختلاف ہو تو آواز بلند ہونا مناسب رویہ نہیں سمجھا گیا۔
- نماز کا وقت آنے پر نماز کی طرف جانا مقدم رہا۔
- گھریلو واقعات میں بھی ادب اور ضبط کی ضرورت ہے۔
