صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۷ - کنواری بیوی کے سات دن

کنواری بیوی کے پاس سات دن رہنا: سنت کا مختصر بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۲۷

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُقِيمَ عَنْدَ الْبِكْرِ سَبْعًا " ، قَالَ خَالِدٌ : وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ : رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

سیدنا انس بن مالک روایت:

کنواری کے پاس سات دن رہنا سنت ہے۔ خالد نے کہا اگر میں چاہتا اس حدیث کو مرفوع بیان کرتا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۷ کا خلاصہ

اس روایت میں ابوقلابہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ کنواری کے پاس سات دن رہنا سنت ہے۔ متن مختصر ہے، مگر موضوع واضح ہے: نئی باکرہ بیوی کی باری۔ خالد نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ چاہتے تو اس حدیث کو مرفوع بیان کرتے۔ اس حدیث میں تفصیل کم ہے، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ نکاح کے بعد باکرہ بیوی کے لیے سات دن کے قیام کا ذکر آیا ہے۔ اس سے بیوی کے ابتدائی حق، نئی شادی کے آداب، اور باری کی تقسیم کے اصول کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ روایت پچھلی روایات کے مضمون سے ملتی ہے، مگر اپنے الفاظ میں بہت مختصر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کنواری بیوی کے پاس سات دن رہنے کو سنت کہا گیا ہے۔
  • روایت مختصر ہے، اس لیے اس سے صرف اسی قدر بات لی جائے گی۔
  • نکاح کے بعد ابتدائی قیام کا حق بیان ہوا ہے۔
  • خالد نے مرفوع بیان کرنے کا امکان ذکر کیا، مگر روایت میں سنت کا لفظ آیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں