صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۶ - باکرہ سات دن، ثیبہ تین دن
باکرہ کے لیے سات دن اور ثیبہ کے لیے تین دن: سنت کا بیان
صحیح مسلم : ۳۶۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۲۶
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عَنْدَهَا سَبْعًا ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عَنْدَهَا ثَلَاثًا " ، قَالَ خَالِدٌ : وَلَوْ قُلْتُ : إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتُ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : السُّنَّةُ كَذَلِكَ .
سیدنا انس روایت:
جب باکرہ سے نکاح کرے اور پہلے اس سے اس کے نکاح میں ثیبہ ہو تو اس باکرہ کے پاس سات روز تک رہے (اور بعد اس کے پھر باری مقرر کرے) اور جب ثیبہ سے نکاح کرے اور باکرہ اس کے نکاح میں ہو تو اس کے پاس تین دن رہے۔ خالد نے کہا: اگر میں اس روایت کو مرفوع کہوں تو بھی سچ کہا مگر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ امر سنت ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نکاح کے بعد قیام کی مدت بیان کی۔ اگر کوئی شخص باکرہ سے نکاح کرے اور پہلے اس کے نکاح میں ثیبہ ہو تو وہ باکرہ کے پاس سات دن رہے، پھر باری مقرر کرے۔ اور اگر ثیبہ سے نکاح کرے جبکہ اس کے نکاح میں باکرہ ہو تو اس کے پاس تین دن رہے۔ روایت میں خالد کا بیان بھی آیا کہ اگر وہ اسے مرفوع کہیں تو سچ کہیں گے، مگر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سنت اسی طرح ہے۔ اس سے باکرہ اور ثیبہ کی باری، نئی بیوی کے حقوق، اور ازواج میں عدل کا مسئلہ سمجھ آتا ہے۔ حدیث میں مدت کو صاف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- باکرہ بیوی کے پاس سات دن رہنے کا ذکر روایت میں ہے۔
- ثیبہ بیوی کے پاس تین دن رہنے کا ذکر روایت میں ہے۔
- اس مدت کے بعد باری کا نظام قائم کیا جاتا ہے۔
- سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اسے سنت کے طور پر بیان کیا۔
