صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۵ - سات دن اور برابری کا اصول
سات دن کا قیام اور بیویوں میں برابری کا سبق
صحیح مسلم : ۳۶۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۲۵
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حدثنا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ هَذَا فِيهِ ، قَالَ : " إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ ، وَأُسَبِّعَ لِنِسَائِي ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ ، سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا اور اس میں کئی چیزوں کا ذکر کیا اس میں یہ بھی تھا کہ فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں سات دن تک تمہارے پاس رہوں گا اور اگر سات دن تمہارے پاس رہوں گا تو اپنی اور بیبیوں کے پاس بھی سات سات دن رہوں گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر ہے اور اس میں باری کی تقسیم کا ایک اہم پہلو بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن رہوں گا، اور اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں تو اپنی دوسری بیویوں کے پاس بھی سات سات دن رہوں گا۔ یہ بات بہت صاف ہے کہ کسی ایک بیوی کو زیادہ وقت دینے سے باقی بیویوں کا حق ختم نہیں ہوتا۔ نکاح میں عدل، بیویوں کی باری، اور ازدواجی حقوق اس حدیث کے اصل الفاظ سے جڑے ہوئے موضوعات ہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ گھر کا نظام محبت سے بھی چلتا ہے اور انصاف سے بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک بیوی کو سات دن دیے جائیں تو باقی بیویوں کا بھی خیال رکھا جائے۔
- بیویوں میں باری کی تقسیم عدل کے ساتھ ہونی چاہیے۔
- نکاح کے بعد بیوی کے دل کو عزت دینا اچھا عمل ہے۔
- برابری کا اصول گھر کے سکون میں مدد دیتا ہے۔
