صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۲ - تین دن یا سات دن کا اختیار

نئی بیوی کے لیے تین دن یا سات دن: باری کا نرم اور منصفانہ طریقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۲۲

حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عَنْدَهُ ، قَالَ لَهَا : " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عَنْدَكِ ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ " ، ثُمَّ دُرْتُ قَالَت : ثَلِّثْ .

ابوبکر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نکاح کیا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور ان کے پاس صبح کی تو فرمایا: کہ ”تم اپنے گھر والے کے پاس حقیر نہیں ہو اگر تم چاہو تو میں ایک ہفتہ تمہارے پاس رہوں۔ اور اگر چاہو تو تین روز اور پھر دورہ کروں۔“ انہوں نے عرض کی کہ تین ہی روز رہیے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نکاح کے بعد نئی بیوی کی باری کا مسئلہ بہت سادہ انداز میں آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تم اپنے گھر والے کے پاس حقیر نہیں ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا کہ اگر تم چاہو تو میں سات دن تمہارے پاس رہوں، اور اگر چاہو تو تین دن رہوں، پھر باقی ازواج کے پاس باری سے جاؤں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تین دن کو پسند کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کے دل کی بات سننا، اس کی عزت کرنا، اور باری کی تقسیم میں عدل رکھنا نکاح کے آداب میں شامل ہے۔ یہاں زور نئی شادی کے حق اور باقی بیویوں کے حقوق کے توازن پر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شوہر کو بیوی سے نرمی کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔
  • نئی بیوی کو اس کے حق کا احساس دلانا اچھا رویہ ہے۔
  • باری کے معاملے میں اختیار اور عدل دونوں کا خیال رکھا گیا۔
  • سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تین دن کو پسند کیا، جیسا کہ روایت میں آیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں