صحیح بخاری حدیث ۵۳۸۷ - سادہ ولیمہ اور دستر خوان
ولیمہ کی حدیث: سادہ دعوت اور کھجور، پنیر، گھی کا دستر خوان
صحیح بخاری : ۵۳۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۸۷
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِي بِصَفِيَّةَ ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ ، فَأُلْقِيَ عَلَيْهَا التَّمْرُ وَالْأَقِطُ وَالسَّمْنُ " ، وَقَالَ عَمْرٌو : عَنْ أَنَسٍ ، " بَنَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ راستے میں قیام کیا اور میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی دعوت میں بلایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھایا گیا، پھر آپ نے اس پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا اور عمرو بن ابی عمرو نے کہا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ صحبت کی، پھر ایک چمڑے کے دستر خوان پر (کھجور، گھی، پنیر ملا کر بنا ہوا) حلوہ رکھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۸۷ کا خلاصہ
یہ ولیمہ کی حدیث نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سادہ اور باوقار اندازِ دعوت کو بیان کرتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد راستے میں قیام فرمایا، پھر انہوں نے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت میں بلایا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے حکم سے دستر خوان بچھایا گیا، اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھا گیا۔ دوسری روایت کے لفظ کے مطابق چمڑے کے دستر خوان پر حیس رکھا گیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا اصل مقصد لوگوں کو جمع کرنا اور کھانا پیش کرنا ہے، نہ کہ بہت زیادہ خرچ یا دکھاوا۔ سادہ ولیمہ بھی اچھے طریقے سے ہو سکتا ہے، جب اس میں خیر، شکر اور لوگوں کی شرکت ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولیمہ میں سادہ کھانا بھی کافی ہو سکتا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں کو دعوت میں شریک فرمایا۔
- دستر خوان بچھا کر کھانا پیش کرنے کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
- دعوت کا حسن تکلف سے نہیں، نیت اور سادگی سے ہوتا ہے۔
