صحیح بخاری حدیث ۵۳۸۶ - کھانے میں سادگی کا نبوی انداز
کھانے کے آداب کی حدیث: سادگی اور دستر خوان کا نبوی انداز
صحیح بخاری : ۵۳۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۸۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ عَلِيٌّ هُوَ الْإِسْكَافُ : عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَلَى سُكْرُجَةٍ قَطُّ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَطُّ وَلَا أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ قَطُّ " ، قِيلَ لِقَتَادَةَ : " فَعَلَى مَا كَانُوا يَأْكُلُونَ ؟ قَالَ : عَلَى السُّفَرِ " .
انس روایت:
میں نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تشتری رکھ کر (ایک وقت مختلف قسم کا) کھانا کھایا ہو اور نہ کبھی آپ نے پتلی روٹیاں (چپاتیاں) کھائیں اور نہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میز پر کھایا۔ قتادہ سے پوچھا گیا کہ پھر کس چیز پر آپ کھاتے تھے؟ کہا کہ آپ سفرہ (عام دستر خوان) پر کھانا کھایا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۸۶ کا خلاصہ
یہ حدیث کھانے کے آداب کی حدیث کے طور پر بہت اہم مضمون رکھتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ان کے علم میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کبھی تشتری رکھ کر ایک وقت میں کئی قسم کے کھانے نہیں کھائے، نہ آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے پتلی روٹیاں تیار کی گئیں، اور نہ آپ صلى الله عليه وسلم نے میز پر کھانا کھایا۔ جب قتادہ سے پوچھا گیا کہ پھر لوگ کس چیز پر کھاتے تھے تو انہوں نے کہا کہ سفرہ یعنی عام دستر خوان پر کھاتے تھے۔ اس روایت سے نبوی سادگی، کھانے میں تکلف سے دوری، اور عام اندازِ زندگی صاف سمجھ میں آتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ کھانا سادہ ہو، بیٹھک عام ہو، اور انسان کھانے کو نمائش نہ بنائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے کھانے کا انداز سادہ اور عام لوگوں جیسا تھا۔
- کھانے میں غیر ضروری تکلف اور نمائش سے بچنا بہتر ہے۔
- دستر خوان پر بیٹھ کر کھانے کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- سادہ کھانا بھی عزت اور شکر کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے۔
