صحیح بخاری حدیث ۵۳۹۸ - ٹیک لگا کر نہ کھانے کا نبوی عمل
ٹیک لگا کر کھانے کی حدیث: نبوی آدابِ طعام
صحیح بخاری : ۵۳۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا آكُلُ مُتَّكِئًا " .
علی ابن الاقمر روایت:
میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۹۸ کا خلاصہ
یہ ٹیک لگا کر کھانے کی حدیث آدابِ طعام کے ایک مختصر مگر واضح پہلو کو بیان کرتی ہے۔ ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ اس حدیث میں صرف ایک جملہ ہے، مگر اس میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے کھانے کا انداز سامنے آتا ہے۔ یہاں کسی لمبی تفصیل یا سخت حکم کا ذکر نہیں، بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنا عمل بیان فرمایا۔ کھاتے وقت بیٹھنے کا طریقہ انسان کے مزاج کو ظاہر کرتا ہے۔ اس روایت سے ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ کھانا عاجزی، سادگی اور توجہ کے ساتھ کھایا جائے۔ ٹیک لگا کر آرام طلب انداز میں کھانے کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کا انداز الگ اور سادہ تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔
- کھانے کے وقت بیٹھنے کا انداز بھی ادب کا حصہ ہے۔
- اس حدیث میں نبوی عمل بہت مختصر الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
- کھانے میں سادگی اور توجہ کا مزاج سمجھ میں آتا ہے۔
