صحیح بخاری حدیث ۵۳۹۳ - مومن کے کھانے میں اعتدال
مومن ایک آنت میں کھاتا ہے: کھانے میں اعتدال کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۳۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۹۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَأْكُلُ حَتَّى يُؤْتَى بِمِسْكِينٍ يَأْكُلُ مَعَهُ ، فَأَدْخَلْتُ رَجُلًا يَأْكُلُ مَعَهُ ، فَأَكَلَ كَثِيرًا ، فَقَالَ : يَا نَافِعُ ، لَا تُدْخِلْ هَذَا عَلَيَّ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
نافع روایت:
ابن عمر رضی اللہ عنہما اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے، جب تک ان کے ساتھ کھانے کے لیے کوئی مسکین نہ لایا جاتا۔ ایک مرتبہ میں ان کے ساتھ کھانے کے لیے ایک شخص کو لایا کہ اس نے بہت زیادہ کھانا کھایا۔ بعد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آئندہ اس شخص کو میرے ساتھ کھانے کے لیے نہ لانا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مومن ایک آنت میں کھاتا اور کافر دو آنتیں بھر لیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۹۳ کا خلاصہ
یہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے والی حدیث کھانے میں اعتدال اور نفس پر قابو کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کوئی مسکین ان کے ساتھ کھانے کے لیے نہ لایا جاتا۔ ایک بار ایک شخص کو ساتھ بٹھایا گیا تو اس نے بہت زیادہ کھایا۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اسے دوبارہ میرے ساتھ نہ لانا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے سنا ہے کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتیں بھر لیتا ہے۔ اس روایت میں ایک طرف مسکین کو کھانے میں شریک کرنے کا عمل ہے، دوسری طرف کھانے میں حد سے بڑھنے سے بچنے کی یاد دہانی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما مسکین کو اپنے ساتھ کھلایا کرتے تھے۔
- کھانے میں بہت زیادہ بڑھ جانا پسندیدہ انداز نہیں سمجھا گیا۔
- مومن کے کھانے میں اعتدال کا ذکر نبی صلى الله عليه وسلم کے ارشاد میں آیا ہے۔
- دستر خوان پر دوسروں کو شامل کرنا اچھا عمل ہے۔
