صحیح بخاری حدیث ۵۳۹۲ - کھانے میں وسعت اور شریک کرنا
کھانا شریک کرنے کی حدیث: دو کا کھانا تین کے لیے کافی
صحیح بخاری : ۵۳۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۹۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے اور تین کا چار کے لیے کافی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۹۲ کا خلاصہ
یہ کھانا شریک کرنے کی حدیث انسان کو تنگ دلی کے بجائے وسعتِ دل کا سبق دیتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے، اور تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہے۔ اس مختصر حدیث میں کھانے کی برکت، مہمان کو جگہ دینے، اور موجود رزق کو بانٹنے کا پیغام ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ انسان حساب کتاب چھوڑ دے، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ تھوڑا کھانا بھی مل بانٹ کر کافی ہو سکتا ہے۔ جب دستر خوان پر کوئی تیسرا یا چوتھا شخص آ جائے تو دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے۔ کھانے میں اشتراک اور دوسروں کو شامل کرنا ایک اچھا اخلاقی انداز ہے، جس کی طرف اس روایت میں صاف اشارہ ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانا بانٹنے سے دل میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔
- کم کھانا بھی دوسروں کے ساتھ شریک کیا جا سکتا ہے۔
- مہمان یا ضرورت مند کو دستر خوان سے دور نہیں کرنا چاہیے۔
- یہ حدیث کھانے میں سخاوت کا نرم پیغام دیتی ہے۔
