صحیح بخاری حدیث ۵۳۹۴ - مومن اور کافر کے کھانے کا فرق
مومن ایک آنت میں کھاتا ہے: اعتدال اور بھوک پر قابو
صحیح بخاری : ۵۳۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۹۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَإِنَّ الْكَافِرَ أَوِ الْمُنَافِقَ فَلَا أَدْرِي أَيَّهُمَا " . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَقَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر یا منافق (عبدہ نے کہا کہ) مجھے یقین نہیں کہ ان میں سے کس کے متعلق عبیداللہ نے بیان کیا کہ وہ ساتوں آنتیں بھر لیتا ہے اور ابن بکیر نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث کی طرح بیان فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۹۴ کا خلاصہ
یہ حدیث مومن ایک آنت میں کھاتا ہے کے الفاظ سے کھانے میں اعتدال کا پیغام دیتی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافر یا منافق کے بارے میں راوی کو شک ہے کہ وہ سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ اس روایت میں اصل توجہ کھانے کی مقدار اور انسان کے انداز پر ہے۔ ایک مومن کو کھانے میں قابو، سادگی اور حد کا خیال رکھنا چاہیے۔ حدیث کے الفاظ کو سامنے رکھ کر اتنی ہی بات کہی جا سکتی ہے کہ ایمان والے کے کھانے میں بے قابو پن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی یاد رہے کہ روایت میں راوی نے ایک لفظ کے بارے میں اپنا شک بھی امانت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومن کے کھانے میں اعتدال کا ذکر آیا ہے۔
- زیادہ کھانے کو اس روایت میں پسندیدہ انداز کے طور پر نہیں پیش کیا گیا۔
- راوی نے شک والی بات کو صاف بیان کیا، یہ روایت کی امانت ہے۔
- کھانے میں قابو اور سادگی مومن کے مزاج سے قریب ہے۔
