صحیح بخاری حدیث ۵۳۹۵ - زیادہ کھانے پر نرم یاد دہانی
زیادہ کھانے کی حدیث: ایمان اور کھانے میں اعتدال
صحیح بخاری : ۵۳۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۹۵
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : " كَانَ أَبُو نَهِيكٍ رَجُلًا أَكُولًا ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " ، فَقَالَ : فَأَنَا أُومِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ .
عمرو بن دینار روایت:
ابونہیک بڑے کھانے والے تھے۔ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔ ابونہیک نے اس پر عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۹۵ کا خلاصہ
یہ زیادہ کھانے کی حدیث ایک مختصر مگر معنی خیز گفتگو بیان کرتی ہے۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ابونہیک زیادہ کھانے والے شخص تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا یہ فرمان سنایا کہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ اس پر ابونہیک نے جواب دیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔ اس روایت میں کسی پر حتمی حکم لگانے کی بات نہیں، بلکہ ایک شخص کو کھانے کے معاملے میں نبوی بات یاد دلائی گئی ہے۔ ابونہیک کا جواب بھی ایمان کے اقرار پر مشتمل ہے۔ اس لیے اس حدیث سے کھانے میں اعتدال، نصیحت کا نرم انداز، اور ایمان کے دعوے کے ساتھ اپنے عمل پر توجہ دینے کا پہلو سمجھ میں آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زیادہ کھانے والے شخص کو نبوی بات یاد دلائی گئی۔
- نصیحت میں حدیث کا حوالہ دینا ایک سنجیدہ انداز ہے۔
- ابونہیک نے اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم پر ایمان کا اقرار کیا۔
- ایمان کے ساتھ عمل اور عادت پر بھی توجہ رہنی چاہیے۔
