صحیح بخاری حدیث ۵۴۱ - نبی صلى الله عليه وسلم کے نماز کے اوقات
اوقات نماز کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کا فجر، ظہر، عصر اور عشاء کا معمول
صحیح بخاری : ۵۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۱
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ ، وَأَحَدُنَا يَعْرِفُ جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ فِيهَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ، وَيُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ ، وَأَحَدُنَا يَذْهَبُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَرْجَعَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ، وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ قَالَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " ، وَقَالَ مُعَاذٌ : قَالَ شُعْبَةُ : لَقِيتُهُ مَرَّةً ، فَقَالَ : أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ .
ابوبرزہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب ہم اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان لیتے تھے۔ صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ اور عصر کی نماز اس وقت کہ ہم مدینہ منورہ کی آخری حد تک (نماز پڑھنے کے بعد) جاتے لیکن سورج اب بھی تیز رہتا تھا۔نماز مغرب کا انس رضی اللہ عنہ نے جو وقت بتایا تھا وہ مجھے یاد نہیں رہا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کو تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، پھر ابوالمنہال نے کہا کہ آدھی رات تک (مؤخر کرنے میں) کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اور معاذ نے کہا کہ شعبہ نے فرمایا کہ پھر میں دوبارہ ابوالمنہال سے ملا تو انہوں نے فرمایا ”یا تہائی رات تک“۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کے اوقات کا ایک صاف اور عملی نقشہ ملتا ہے۔ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم صبح کی نماز ایسے وقت پڑھتے جب پاس بیٹھا آدمی پہچانا جا سکتا تھا، اور فجر میں ساٹھ سے سو آیتیں پڑھتے۔ ظہر کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد بتایا گیا، جبکہ عصر ایسے وقت ادا ہوتی کہ آدمی مدینہ کے دور کنارے تک جائے تو بھی سورج تیز رہتا۔ عشاء کے بارے میں روایت میں تہائی رات یا آدھی رات تک تاخیر کا ذکر ہے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ نماز کا وقت پہچاننا اور نماز کو سنت کے قریب انداز میں ادا کرنا دین کا اہم حصہ ہے۔ یہ حدیث اوقات نماز، فجر کی قرأت اور عشاء کی تاخیر کے بارے میں بہت مفید رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر کی نماز ایسے وقت پڑھی جاتی تھی کہ نمازی اپنے قریب بیٹھے شخص کو پہچان لیتا تھا۔
- ظہر کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد بتایا گیا ہے۔
- عصر جلدی پڑھی جاتی تھی، اس کے بعد بھی سورج روشن اور تیز رہتا تھا۔
- عشاء میں کبھی رات کے ایک حصے تک تاخیر کا ذکر آیا ہے۔
