صحیح بخاری حدیث ۵۴۲ - گرمی میں کپڑے پر سجدہ
گرمی میں نماز اور کپڑے پر سجدہ: ایک آسان فہم حدیث
صحیح بخاری : ۵۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُقَاتِلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ فَسَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِّ " .
انس بن مالک روایت:
جب ہم (گرمیوں میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز دوپہر دن میں پڑھتے تھے تو گرمی سے بچنے کے لیے کپڑوں پر سجدہ کیا کرتے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۲ کا خلاصہ
یہ حدیث گرمی میں نماز کے ایک عملی پہلو کو بیان کرتی ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صحابہ کرام نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پیچھے دوپہر کے وقت ظہر کی نماز پڑھتے تو گرمی کی وجہ سے کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے۔ متن میں صاف ہے کہ یہ عمل گرمی سے بچنے کے لیے تھا۔ اس سے ہمیں نماز میں آسانی اور ضرورت کے وقت مناسب احتیاط کا انداز معلوم ہوتا ہے، لیکن بات کو اتنا ہی رکھنا چاہیے جتنا حدیث میں آیا ہے۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر حال میں کپڑے پر سجدہ کیا جائے، بلکہ خاص طور پر گرمی کا ذکر ہے۔ اس لیے گرمی میں نماز، ظہر کی نماز اور سجدہ کے ادب کو سمجھنے کے لیے یہ روایت بہت سادہ اور واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ سخت گرمی میں سجدہ کرتے وقت کپڑوں سے بچاؤ لیتے تھے۔
- حدیث میں ظہر کے دوپہر کے وقت کی گرمی کا ذکر ہے۔
- نماز میں اصل توجہ عبادت پر رہتی ہے، مگر ضرورت کا خیال بھی رکھا گیا۔
- رعایت کا بیان اسی حد تک سمجھنا چاہیے جتنا حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں۔
