صحیح بخاری حدیث ۵۴۳۹ - کدو کے قتلے جمع کرنے کا واقعہ
کدو کے قتلے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے جمع کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۴۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۳۹
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ، قَالَ أَنَسٌ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوْلِ الصَّحْفَةِ ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ " . وَقَالَ ثُمَامَةُ : عَنْ أَنَسٍ ، فَجَعَلْتُ أَجْمَعُ الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْهِ .
انس بن مالک روایت:
ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس دعوت میں گیا۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور شوربہ، جس میں کدو اور خشک کیا ہوا گوشت تھا، پیش کیا۔انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے ہیں۔ اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔ شمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کدو کے قتلے (تلاش کر کر کے) اکٹھے کرنے لگا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں درزی کی دعوت کا واقعہ دوبارہ تفصیل کے ساتھ آتا ہے۔ درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا۔ انس رضی اللہ عنہ بھی ساتھ گئے۔ کھانے میں جَو کی روٹی اور ایسا شوربہ پیش ہوا جس میں کدو اور خشک گوشت تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے کے چاروں طرف سے کدو تلاش کر رہے ہیں، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کدو کے قتلے جمع کرنے لگے۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس دن سے وہ کدو پسند کرنے لگے۔ اس حدیث میں محبت، خدمت، کھانے کا ادب، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند صاف نظر آتی ہے۔ کدو کی حدیث کو اسی سادہ انداز میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو والا شوربہ تناول فرمایا۔
- انس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند دیکھ کر کدو سامنے جمع کیے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم محبت کے ساتھ خدمت کا موقع ڈھونڈتے تھے۔
- سادہ دعوت اور سادہ کھانا بھی باعث عزت ہو سکتا ہے۔
