صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۰ - تازہ کھجور اور ککڑی کھانا
تازہ کھجور اور ککڑی: نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے کھانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۴۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۴۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ " .
عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھاتے دیکھا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھاتے دیکھا۔ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے ایک عمل کا علم ہوتا ہے۔ تازہ کھجور، ککڑی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا اس حدیث کے اصل الفاظ سے جڑے ہوئے موضوعات ہیں۔ اس میں کوئی خاص مقدار، وقت یا لازم حکم بیان نہیں ہوا، اس لیے اسے اسی حد تک بیان کرنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں چیزیں ساتھ کھائیں۔ عام قاری کے لیے یہ حدیث سیرت کے کھانے پینے والے پہلو کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور سادہ غذا کی مثال بھی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھائی۔
- کھانے کے معمولات بھی سیرت کا حصہ ہیں۔
- سادہ چیزیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں شامل تھیں۔
- حدیث سے اتنی ہی بات لینی چاہیے جتنی روایت میں بیان ہوئی ہے۔
