صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۱ - کھجور تقسیم کرنے کا واقعہ

کھجور تقسیم کرنے کی حدیث اور سادہ واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۴۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا تَمْرًا ، فَأَصَابَنِي مِنْهُ خَمْسٌ أَرْبَعُ تَمَرَاتٍ وَحَشَفَةٌ ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْحَشَفَةَ هِيَ أَشَدُّهُنَّ لِضِرْسِي " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھجور تقسیم کی پانچ مجھے عنایت فرمائیں چار تو اچھی کھجوریں تھیں اور ایک خراب تھی جو میرے دانتوں کے لیے سب سے زیادہ سخت تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے درمیان کھجوریں تقسیم کیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں پانچ کھجوریں آئیں۔ ان میں سے چار اچھی تھیں اور ایک خراب تھی، جو ان کے دانتوں کے لیے سب سے زیادہ سخت ثابت ہوئی۔ روایت کا مضمون بہت سادہ ہے: کھجور کی تقسیم، صحابی کا حصہ، اور خراب کھجور کا ذکر۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی سادگی، تقسیم کے عمل، اور کھانے کی عام حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس حدیث میں کوئی بڑا حکم بیان نہیں ہوا، اس لیے اسے ایک سادہ تاریخی اور تربیتی واقعہ کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ کھجور کی حدیث کے طور پر یہ روایت کھانے سے متعلق ابواب میں آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے درمیان کھجوریں تقسیم کیں۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم چھوٹی چیزوں کے واقعات بھی محفوظ رکھتے تھے۔
  • کھانے کی معمولی کیفیت بھی حدیث میں امانت کے ساتھ بیان ہوئی۔
  • سادہ زندگی میں کم چیز بھی قابل ذکر اور قابل شکر ہو سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں