صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۲ - پانی اور کھجور پر گزر بسر
پانی اور کھجور والی حدیث: نبوی گھرانے کی سادگی
صحیح بخاری : ۵۴۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۴۲
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ : عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ "
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ہم پانی اور کھجور ہی سے (اکثر دنوں میں) پیٹ بھرتے رہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی سادگی بیان کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ہم اکثر پانی اور کھجور سے پیٹ بھرتے رہے۔ روایت میں دو چیزوں کا ذکر ہے: کھجور اور پانی۔ یہ الفاظ اس زمانے کی سادہ زندگی، کم وسائل اور صبر کا پتہ دیتے ہیں۔ پانی اور کھجور والی حدیث کو پڑھ کر آدمی سمجھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں دنیاوی فراوانی مقصد نہیں تھی۔ البتہ حدیث میں کسی کو فقر اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ ایک واقعہ اور حالت بیان کی گئی ہے۔ اس لیے اسے آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور قناعت کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں سادگی اور کم وسائل کا حال بیان ہوا۔
- کھجور اور پانی سے پیٹ بھرنے کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا۔
- دنیاوی فراوانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا اصل مقصد نہیں تھی۔
- حدیث ہمیں نعمتوں کی قدر اور سادگی کی یاد دلاتی ہے۔
