صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۳ - جابر رضی اللہ عنہ کا قرض اور کھجوریں
جابر رضی اللہ عنہ کا قرض اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی مدد
صحیح بخاری : ۵۴۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۴۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ بِالْمَدِينَةِ يَهُودِيٌّ وَكَانَ يُسْلِفُنِي فِي تَمْرِي إِلَى الْجِدَادِ وَكَانَتْ لِجَابِرٍ الْأَرْضُ الَّتِي بِطَرِيقِ رُومَةَ ، فَجَلَسَتْ فَخَلَا عَامًا ، فَجَاءَنِي الْيَهُودِيُّ عِنْدَ الْجَدَادِ وَلَمْ أَجُدَّ مِنْهَا شَيْئًا ، فَجَعَلْتُ أَسْتَنْظِرُهُ إِلَى قَابِلٍ ، فَيَأْبَى فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : امْشُوا نَسْتَنْظِرْ لِجَابِرٍ مِنَ الْيَهُودِيِّ ، فَجَاءُونِي فِي نَخْلِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ الْيَهُودِيَّ ، فَيَقُولُ أَبَا الْقَاسِمِ : لَا أُنْظِرُهُ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ ، ثُمَّ جَاءَهُ فَكَلَّمَهُ فَأَبَى فَقُمْتُ فَجِئْتُ بِقَلِيلِ رُطَبٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ عَرِيشُكَ يَا جَابِرُ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : افْرُشْ لِي فِيهِ ، فَفَرَشْتُهُ فَدَخَلَ فَرَقَدَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَجِئْتُهُ بِقَبْضَةٍ أُخْرَى فَأَكَلَ مِنْهَا ، ثُمَّ قَامَ فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَامَ فِي الرِّطَابِ فِي النَّخْلِ الثَّانِيَةَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا جَابِرُ ، جُدَّ وَاقْضِ فَوَقَفَ فِي الْجَدَادِ فَجَدَدْتُ مِنْهَا مَا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ مِنْهُ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَشَّرْتُهُ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، عُرُوشٌ وَعَرِيشٌ بِنَاءٌ " . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَعْرُوشَاتٍ مَا يُعَرَّشُ مِنَ الْكُرُومِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ، يُقَالُ : عُرُوشُهَا أَبْنِيَتُهَا .
جابر بن عبداللہ روایت:
مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ مجھے قرض اس شرط پر دیا کرتا تھا کہ میری کھجوریں تیار ہونے کے وقت لے لے گا۔ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک زمین بئررومہ کے راستہ میں تھی۔ ایک سال کھجور کے باغ میں پھل نہیں آئے۔ پھل چنے جانے کا جب وقت آیا تو وہ یہودی میرے پاس آیا لیکن میں نے تو باغ سے کچھ بھی نہیں توڑا تھا۔ اس لیے میں آئندہ سال کے لیے مہلت مانگنے لگا لیکن اس نے مہلت دینے سے انکار کیا۔اس کی خبر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ چلو، یہودی سے جابر رضی اللہ عنہ کے لیے ہم مہلت مانگیں گے۔ چنانچہ یہ سب میرے باغ میں تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی سے گفتگو فرماتے رہے لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ ابوالقاسم میں مہلت نہیں دے سکتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور کھجور کے باغ میں چاروں طرف پھرے پھر تشریف لائے اور اس سے گفتگو کی لیکن اس نے اب بھی انکار کیا پھر میں کھڑا ہوا اور تھوڑی سی تازہ کھجور لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تناول فرمایا پھر فرمایا جابر! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے؟ میں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں میرے لیے کچھ فرش بچھا دو۔ میں نے بچھا دیا تو آپ داخل ہوئے اور آرام فرمایا پھر بیدار ہوئے تو میں ایک مٹھی اور کھجور لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے بھی تناول فرمایا پھر آپ کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو فرمائی۔ اس نے اب بھی انکار کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ باغ میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ جابر! جاؤ اب پھل توڑو اور قرض ادا کر دو۔ آپ کھجوروں کے توڑے جانے کی جگہ کھڑے ہو گئے اور میں نے باغ میں سے اتنی کھجوریں توڑ لیں جن سے میں نے قرض ادا کر دیا اور اس میں سے کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث میں جو «عروش» کا لفظ ہے «عروش» اور «عريش» عمارت کی چھت کو کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (سورۃ الانعام میں لفظ) «معروشات» سے مراد انگور وغیرہ کی ٹٹیاں ہیں۔ دوسری آیت (سورۃ البقرہ) «عروشها خاویة علی» یعنی اپنی چھتوں پر گرے ہوئے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا قرض والا واقعہ بیان ہوا ہے۔ مدینہ میں ایک یہودی انہیں قرض دیتا تھا، اس شرط پر کہ کھجوریں تیار ہونے پر وصول کرے گا۔ ایک سال باغ میں پھل نہ آیا، تو جابر رضی اللہ عنہ نے مہلت مانگی، مگر اس نے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ جابر رضی اللہ عنہ کے باغ میں تشریف لائے اور قرض خواہ سے مہلت کی بات کی، مگر وہ نہ مانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں تشریف لے گئے، آرام فرمایا، کھجور تناول فرمائی، اور آخر میں جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ پھل توڑو اور قرض ادا کرو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے قرض بھی ادا کیا اور کھجوریں بچ بھی گئیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع قرض، مدد، کھجوروں کی برکت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض ادا کرنا اہم ذمہ داری ہے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے ادا کیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کے لیے قرض خواہ سے بات کی۔
- مشکل وقت میں کسی مسلمان بھائی کی مدد کے لیے جانا اچھا عمل ہے۔
- حدیث میں کھجوروں کے واقعہ کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی کا ذکر آیا ہے۔
