صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۴ - کھجور کے درخت کی برکت
کھجور کے درخت کی برکت اور مسلمان کی مثال
صحیح بخاری : ۵۴۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۴۴
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ إِذَا أُتِيَ بِجُمَّارِ نَخْلَةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لَمَا بَرَكَتُهُ كَبَرَكَةِ الْمُسْلِمِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي النَّخْلَةَ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا عَاشِرُ عَشَرَةٍ أَنَا أَحْدَثُهُمْ ، فَسَكَتُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ النَّخْلَةُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کھجور کے درخت کا گابھہ لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض درخت ایسے ہوتے ہیں جن کی برکت مسلمان کی برکت کی طرح ہوتی ہے۔ میں نے خیال کیا کہ آپ کا اشارہ کھجور کے درخت کی طرف ہے۔ میں نے سوچا کہ کہہ دوں کہ وہ درخت کھجور کا ہوتا ہے، یا رسول اللہ! لیکن پھر جو میں نے مڑ کر دیکھا تو مجلس میں میرے علاوہ نو آدمی اور تھے اور میں ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس لیے میں خاموش رہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ درخت کھجور کا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے، اتنے میں کھجور کے درخت کا گابھہ لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض درخت ایسے ہوتے ہیں جن کی برکت مسلمان کی برکت جیسی ہوتی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دل میں خیال کیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے، مگر چونکہ مجلس میں وہ سب سے کم عمر تھے، اس لیے خاموش رہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کہ وہ درخت کھجور کا ہے۔ اس حدیث میں کھجور کے درخت کی مثال، مسلمان کی برکت، مجلس کا ادب، اور بڑوں کے سامنے خاموشی کا پہلو موجود ہے۔ یہ روایت علم اور ادب دونوں سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھجور کے درخت کی برکت کو مسلمان کی برکت سے تشبیہ دی گئی۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کم عمری کی وجہ سے مجلس میں ادب کیا۔
- علمی جواب معلوم ہو تو بھی موقع اور ادب کا لحاظ کیا جا سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مثالوں کے ذریعے تعلیم دیتے تھے۔
