صحیح بخاری حدیث ۵۴۴ - عصر اور حجرہ میں دھوپ

عصر کی نماز کا وقت: حجرہ میں دھوپ باقی تھی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۴

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا " ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ : عَنْ هِشَامٍ مِنْ قَعْرِ حُجْرَتِهَا .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ ان کے حجرہ میں سے ابھی دھوپ باہر نہیں نکلتی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عصر پڑھنے کا وقت بیان کرتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ ان کے حجرہ میں سے ابھی دھوپ باہر نہیں نکلی ہوتی تھی۔ روایت کے دوسرے لفظ میں حجرہ کے اندرونی حصے کا ذکر بھی آیا ہے۔ اس سے عصر کی نماز کے وقت کی ایک واضح تصویری سمجھ پیدا ہوتی ہے: نماز اتنی تاخیر سے نہیں ہوتی تھی کہ سورج کی روشنی ختم ہو جائے یا سایہ پوری طرح پھیل جائے۔ اس حدیث کا اصل موضوع عصر کا وقت ہے، نہ کہ حجرہ کی تفصیل۔ اس لیے عصر کی نماز، نماز کے اوقات، اور وقت پر نماز کے بارے میں یہ روایت سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عصر نسبتاً جلد ادا فرماتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عصر کی نماز ایسے وقت ادا ہوتی تھی کہ دھوپ حجرہ میں باقی رہتی تھی۔
  • حدیث عصر کے وقت کو روزمرہ مشاہدے کے ذریعے سمجھاتی ہے۔
  • روایت میں نماز کے وقت کو سورج اور دھوپ سے واضح کیا گیا ہے۔
  • نماز کے اوقات کو سمجھنے میں صحابہ کے مشاہدات اہم ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں