صحیح بخاری حدیث ۵۴۵ - عصر کے وقت حجرہ میں دھوپ
عصر کی نماز اور دھوپ کا باقی رہنا: حدیث کی آسان تشریح
صحیح بخاری : ۵۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی تو دھوپ ان کے حجرہ ہی میں تھی۔ سایہ وہاں نہیں پھیلا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۵ کا خلاصہ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس حدیث میں بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عصر کی نماز ایسے وقت پڑھی کہ دھوپ ان کے حجرہ ہی میں موجود تھی، اور سایہ وہاں پھیلا نہیں تھا۔ یہ بیان بہت سادہ ہے مگر اوقات نماز کے لیے بہت کام کی بات بتاتا ہے۔ عصر کی نماز کا وقت یہاں کسی گھڑی کے حساب سے نہیں، بلکہ سورج کی حالت اور حجرہ میں دھوپ کے باقی رہنے سے سمجھایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز عصر کا معمول ایسے وقت تھا جب دن کی روشنی واضح طور پر باقی ہوتی تھی۔ ہمیں اس حدیث سے یہی بات لینی چاہیے کہ نبی صلى الله عليه وسلم عصر کو ایسے وقت ادا فرماتے تھے جس میں دھوپ ختم نہیں ہوئی تھی۔ یہ حدیث عصر کے وقت، دھوپ، اور نماز کی پابندی کے بارے میں واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عصر کی نماز کے وقت دھوپ حجرہ میں باقی تھی۔
- سایہ ابھی حجرہ میں پھیلا نہیں تھا، اس لیے وقت نسبتاً روشن تھا۔
- حدیث وقت کی پہچان کو آسان مثال سے بیان کرتی ہے۔
- نماز کے وقت کو سمجھنے میں سنت کا عملی بیان اہم ہے۔
