صحیح بخاری حدیث ۵۴۷۲ - عقیقہ کی روایت کی تحقیق

عقیقہ کی حدیث: روایت کس سے سنی گئی؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۷۲

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالَ : " أَمَرَنِي ابْنُ سِيرِينَ أَنْ أَسْأَلَ الْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ " .

حبیب بن شہید روایت:

´مجھ سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے قریش بن انس نے بیان کیا، کہا کہ ان سے حبیب بن شہید نے بیان کیا کہ مجھے محمد بن سیرین نے حکم دیا کہ` میں امام حسن بصری سے پوچھوں کہ انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عقیقہ کے حکم کی تفصیل نہیں، بلکہ عقیقہ کی حدیث کے ماخذ کی تحقیق کا ذکر ہے۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے حبیب بن شہید رحمہ اللہ کو حکم دیا کہ وہ حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھیں کہ انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی ہے۔ جب سوال کیا گیا تو حسن بصری رحمہ اللہ نے بتایا کہ انہوں نے یہ حدیث سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے معاملے میں صرف بات سن لینا کافی نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا تھا کہ بات کس سے سنی گئی ہے۔ عقیقہ کی حدیث کے ساتھ یہ علمی احتیاط بہت اہم سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی بات کی نسبت معلوم کرنا علمی احتیاط ہے۔
  • عقیقہ کی حدیث کے راوی کا پوچھنا تحقیق کی مثال ہے۔
  • علماء حدیث میں سند اور سماع کا خاص خیال رکھتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں