صحیح بخاری حدیث ۵۴۷۳ - فرع اور عتیرہ کا حکم
فرع اور عتیرہ: اسلام میں جاہلی رسموں کی نفی
صحیح بخاری : ۵۴۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۷۳
حَدَّثَنَا عبْدانُ ، حَدّثنَا عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرنَا مَعْمرٌ ، أَخْبَرَنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا فَرْعَ وَلَا عَتِيِرَةَ " ، وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النَّتَاجِ ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَواغِيِتهِمْ وَالْعَتيِرةٌ فِي رَجَبٍ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اسلام میں) «فرع» اور «عتيرة» نہیں ہیں۔ «فرع» (اونٹنی کے) سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جسے (جاہلیت میں) لوگ اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے اور «عتيرة» کو رجب میں ذبح کیا جاتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع فرع اور عتیرہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرع اور عتیرہ نہیں ہیں۔ روایت میں فرع کی وضاحت آئی ہے کہ یہ جانور کے پہلے بچے کو کہتے تھے جسے جاہلیت میں لوگ اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے۔ عتیرہ کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے رجب میں ذبح کیا جاتا تھا۔ اس حدیث میں پیغام بہت صاف ہے کہ اسلام ایسی رسموں کو باقی نہیں رکھتا جن کا تعلق بتوں، جاہلی قربانیوں یا غیر شرعی طریقوں سے ہو۔ فرع اور عتیرہ کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عبادت اور قربانی کا معاملہ صرف اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بتوں کے نام پر ذبح کرنا اسلام میں قابل قبول نہیں۔
- جاہلیت کی رسم کو دین سمجھ کر باقی نہیں رکھا جا سکتا۔
- قربانی اور ذبح کا تعلق اللہ کے حکم سے ہونا چاہیے۔
