صحیح بخاری حدیث ۵۴۷۴ - فرع و عتیرہ کی ممانعت

فرع و عتیرہ کی ممانعت: قربانی صرف اللہ کے لیے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۷۴

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا فَرْعَ وَلَا عَتِيِرَةَ " ، قَالَ : وَالْفَرَعُ أَوَّلُ نِتَاجٍ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغيِتَهِمِ ، وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجبٍ .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «فرع» اور «عتيرة» (اسلام میں) نہیں ہیں۔ بیان کیا کہ «فرع» سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جو ان کے یہاں (اونٹنی سے) پیدا ہوتا تھا، اسے وہ اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور «عتيرة» وہ قربانی جسے وہ رجب میں کرتے تھے (اور اس کی کھال درخت پر ڈال دیتے)۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی فرع اور عتیرہ کا ذکر آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرع اور عتیرہ نہیں ہیں۔ روایت میں فرع کو وہ پہلا بچہ بتایا گیا ہے جو جانور سے پیدا ہوتا تھا اور لوگ اسے اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ عتیرہ رجب میں کی جانے والی قربانی تھی۔ اس حدیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام نے ایسی رسموں کو قبول نہیں کیا جن میں اللہ کے بجائے بتوں یا جاہلی رواجوں کا دخل تھا۔ فرع و عتیرہ کی حدیث میں اصل توجہ توحید، درست نیت اور شرعی طریقے پر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ذبح اور قربانی اللہ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔
  • دین میں جاہلی رسم کو عبادت نہیں بنایا جا سکتا۔
  • رسم اور عبادت میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں