صحیح بخاری حدیث ۵۴۷۷ - سکھائے ہوئے کتے کا شکار
سکھائے ہوئے کتے کا شکار اور معراض کا حکم
صحیح بخاری : ۵۴۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۷۷
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ ، قَالَ : كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ، قُلْتُ : وَإِنْ قَتَلْنَ ؟ قَالَ : وَإِنْ قَتَلْنَ ، قُلْتُ : وَإِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ ، قَالَ : كُلْ مَا خَزَقَ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ " .
عدی بن حاتم روایت:
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سکھائے ہوئے کتے (شکار پر) چھوڑتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شکار وہ صرف تمہارے لیے رکھے اسے کھاؤ۔ میں نے عرض کیا اگرچہ کتے شکار کو مار ڈالیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (ہاں) اگرچہ مار ڈالیں! میں نے عرض کیا کہ ہم بے پر کے تیر یا لکڑی سے شکار کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان کی دھار اس کو زخمی کر کے پھاڑ ڈالے تو کھاؤ لیکن اگر ان کے عرض سے شکار مارا جائے تو اسے نہ کھاؤ (وہ مردار ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے سکھائے ہوئے کتوں اور معراض سے شکار کا حکم پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شکار وہ کتے تمہارے لیے روکیں اسے کھاؤ۔ عدی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اگر وہ شکار کو مار ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مار ڈالیں تب بھی۔ پھر معراض کے بارے میں فرمایا کہ اگر اس کی دھار شکار کو زخمی کر کے پھاڑ دے تو کھاؤ، لیکن اگر چوڑی طرف سے شکار مرے تو نہ کھاؤ۔ اس حدیث میں حلال شکار کی شرط، آلے کے اثر اور سدھائے ہوئے کتے کے عمل کو صاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سکھایا ہوا کتا اگر شکار تمہارے لیے روکے تو اس کا حکم الگ ہے۔
- شکار کے آلے کی دھار اور چوڑی طرف میں فرق کیا گیا۔
- حلال کھانے کے لیے شکار کی حالت دیکھنا ضروری ہے۔
