صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۰ - بلا ضرورت کتا پالنے کا حکم

کتا پالنے کی حدیث: ضرورت اور بلا ضرورت کا فرق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۸۰

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارِيَةٍ ، نَقَصَ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطَانِ " .

عبداللہ بن دینار روایت:

میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ایسا کتا پالا جو نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ہے اور نہ شکار کرنے کے لیے تو روزانہ اس کی نیکیوں میں سے دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں کتا پالنے کے بارے میں واضح ہدایت آئی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ایسا کتا پالا جو نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ہے اور نہ شکار کے لیے، تو روزانہ اس کے عمل میں سے دو قیراط کی کمی ہوتی ہے۔ اس روایت میں اصل فرق ضرورت اور بلا ضرورت کے درمیان ہے۔ مویشی کی حفاظت اور شکار کا کتا مستثنیٰ بیان ہوا، لیکن عام شوق یا بے مقصد کتا پالنے پر تنبیہ آئی ہے۔ کتا پالنے کی حدیث کو سمجھتے ہوئے متن میں دی گئی استثنا کو بھی ساتھ رکھنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بلا ضرورت کتا پالنے سے بچنے کی تنبیہ آئی ہے۔
  • مویشی کی حفاظت اور شکار کے لیے کتے کا استثنا بیان ہوا۔
  • عمل کے اجر کی حفاظت کے لیے دینی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں