صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۱ - شکاری اور مویشی کے کتے کا استثنا
شکاری کتا اور مویشی کا کتا: حدیث کی واضح استثنا
صحیح بخاری : ۵۴۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۸۱
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبًا ضَارِيًا لِصَيْدٍ أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
مکی بن ابراہیم روایت:
´ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سالم سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شکاریوں اور مویشی کی حفاظت کی غرض کے سوا جس نے کتا پالا تو اس کے ثواب میں سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی کتا پالنے کا حکم بیان ہوا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ شکاری کتے اور مویشی کی حفاظت کے کتے کے سوا جو شخص کتا پالے، اس کے اجر میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی ہے۔ یہ روایت پچھلے مضمون کو مزید صاف کرتی ہے کہ ہر کتے کا حکم ایک جیسا نہیں، بلکہ ضرورت کے کتے کا ذکر الگ کیا گیا ہے۔ شکار کے لیے سدھایا ہوا کتا اور مویشی کی حفاظت کے لیے رکھا گیا کتا اس ممانعت میں شامل نہیں۔ باقی صورتوں میں حدیث سخت تنبیہ کرتی ہے کہ انسان اپنے اجر کو ضائع کرنے والے کاموں سے بچے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں ضرورت کے کتے اور بلا ضرورت کتے کا فرق آیا ہے۔
- شکار اور مویشی کی حفاظت کے لیے استثنا بیان کیا گیا۔
- مسلمان کو اپنے اجر کی حفاظت کی فکر رکھنی چاہیے۔
