صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۲ - کتا پالنے پر اجر کی کمی
کتا پالنے کا حکم: ثواب کی حفاظت کا پیغام
صحیح بخاری : ۵۴۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۸۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارِيًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
عبداللہ بن یوسف روایت:
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مویشی کی حفاظت یا شکار کی غرض کے سوا کسی اور وجہ سے کتا پالا اس کے ثواب سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مویشی کی حفاظت یا شکار کی غرض کے سوا کتا پالا، اس کے ثواب سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہوتی ہے۔ اس روایت میں لفظ ثواب اور عمل کی کمی کا ذکر انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ بعض کام ظاہری طور پر عام لگتے ہیں، مگر دینی اعتبار سے ان کا اثر ہو سکتا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ ضرورت کے کام کو الگ رکھا گیا ہے، لیکن بلا ضرورت شوق کو دینی نقصان کا سبب بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بلا ضرورت کتا پالنے پر اجر کی کمی کا ذکر آیا ہے۔
- ضرورت، یعنی شکار یا مویشی کی حفاظت، حدیث میں مستثنیٰ ہے۔
- اپنے اعمال کے ثواب کی حفاظت کرنا مومن کی فکر ہونی چاہیے۔
