صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۳ - سدھائے ہوئے کتوں کا شکار
سدھائے ہوئے کتوں کا شکار: بسم اللہ اور احتیاط
صحیح بخاری : ۵۴۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۸۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ ؟ فَقَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ ، وَإِنْ قَتَلْنَ ، إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ " .
قتیبہ بن سعید روایت:
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنے سکھائے ہوئے کتوں کو شکار کے لیے چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیتے ہو تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ کر لائیں اسے کھاؤ خواہ وہ شکار کو مار ہی ڈالیں۔ البتہ اگر کتا شکار میں سے خود بھی کھا لے تو اس میں یہ اندیشہ ہے کہ اس نے یہ شکار خود اپنے لیے پکڑا تھا اور اگر دوسرے کتے بھی تمہارے کتوں کے سوا شکار میں شریک ہو جائیں تو نہ کھاؤ۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہم ان کتوں سے شکار کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنے سکھائے ہوئے کتوں کو شکار کے لیے چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیتے ہو تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ کر لائیں اسے کھاؤ، چاہے وہ شکار کو مار ہی ڈالیں۔ مگر اگر کتا خود شکار میں سے کھا لے تو اندیشہ ہے کہ اس نے شکار اپنے لیے پکڑا، اس لیے نہ کھاؤ۔ اگر تمہارے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے بھی شکار میں شریک ہو جائیں تو نہ کھاؤ۔ اس حدیث میں حلال شکار کے لیے نیت، بسم اللہ اور یقین کا پہلو بہت واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سدھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ کے ساتھ چھوڑنے کا حکم آیا ہے۔
- اگر کتا شکار کھا لے تو اس شکار سے بچنے کی ہدایت ہے۔
- دوسرے کتوں کی شرکت سے شکار مشتبہ ہو جاتا ہے۔
