صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۴ - تیر اور کتے کے شکار کا حکم
تیر اور شکاری کتا: شکار حلال ہونے کی پہچان
صحیح بخاری : ۵۴۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۸۴
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَأَمْسَكَ وَقَتَلَ فَكُلْ ، وَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ ، وَإِذَا خَالَطَ كِلَابًا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهَا فَأَمْسَكْنَ وَقَتَلْنَ ، فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ ، وَإِنْ رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَوَجَدْتَهُ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ لَيْسَ بِهِ إِلَّا أَثَرُ سَهْمِكَ فَكُلْ ، وَإِنْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ " .
موسیٰ بن اسماعیل روایت:
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا اور بسم اللہ بھی پڑھی اور کتے نے شکار پکڑا اور اسے مار ڈالا تو اسے کھاؤ اور اگر اس نے خود بھی کھا لیا تو تم نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے پکڑا ہے اور اگر دوسرے کتے جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اس کتے کے ساتھ شکار میں شریک ہو جائیں اور شکار پکڑ کر مار ڈالیں تو ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس کتے نے مارا ہے اور اگر تم نے شکار پر تیر مارا پھر وہ شکار تمہیں دو یا تین دن بعد ملا اور اس پر تمہارے تیر کے نشان کے سوا اور کوئی دوسرا نشان نہیں ہے تو ایسا شکار کھاؤ لیکن اگر وہ پانی میں گر گیا ہو تو نہ کھاؤ۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں شکار کے کئی حالات بیان ہوئے ہیں۔ اگر تم اپنا کتا بسم اللہ پڑھ کر شکار پر چھوڑو، وہ شکار پکڑ کر مار ڈالے، تو کھایا جا سکتا ہے۔ اگر وہ خود کھا لے تو نہ کھاؤ، کیونکہ اس نے اپنے لیے پکڑا۔ اگر ایسے دوسرے کتے ساتھ مل جائیں جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اور وہ شکار کو مار ڈالیں، تو نہ کھاؤ، کیونکہ معلوم نہیں کس کتے نے مارا۔ اسی طرح تیر سے شکار کیا، پھر ایک یا دو دن بعد ملا اور اس پر صرف تمہارے تیر کا نشان ہو تو کھاؤ۔ لیکن اگر وہ پانی میں گرا ہوا ملے تو نہ کھاؤ۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شکار کے حلال ہونے میں سبب کا معلوم ہونا ضروری ہے۔
- بسم اللہ اور اپنے شکاری کتے کی پہچان اہم ہے۔
- پانی میں گرا ہوا شکار مشتبہ ہو جائے تو نہ کھانے کا حکم آیا ہے۔
