صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۵ - تیر لگا شکار بعد میں ملے
تیر لگا شکار دو یا تین دن بعد ملے تو کیا حکم ہے؟
صحیح بخاری : ۵۴۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۸۵
وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَقْتَفِرُ أَثَرَهُ الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ ثُمَّ يَجِدُهُ مَيِّتًا وَفِيهِ سَهْمُهُ ، قَالَ : يَأْكُلُ إِنْ شَاءَ " .
عبدالاعلیٰ روایت:
´اور عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے داؤد بن ابی یاسر نے، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ وہ شکار تیر سے مارتے ہیں پھر دو یا تین دن پر اسے تلاش کرتے ہیں، تب وہ مردہ حالت میں ملتا ہے اور اس کے اندر ان کا تیر گھسا ہوا ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو کھا سکتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خاص صورت پوچھی۔ وہ شکار کو تیر سے مارتے، پھر دو یا تین دن اس کے نشان کو تلاش کرتے، پھر شکار مردہ حالت میں ملتا اور اس کے اندر ان کا تیر موجود ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاہے تو کھا سکتا ہے۔ اس روایت میں اصل بات یہ ہے کہ شکار کے مرنے کا سبب تیر ہی معلوم ہو رہا ہے۔ متن میں پانی، دوسرے جانور یا دوسرے سبب کا ذکر نہیں، اس لیے اس حدیث کی شرح میں اسی خاص صورت کو سامنے رکھا جائے گا۔ تیر سے شکار کی حدیث احتیاط کے ساتھ سبب معلوم کرنے کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شکار کے مرنے کا سبب معلوم ہو تو حکم اسی کے مطابق ہوگا۔
- تیر لگا شکار بعد میں ملے تو روایت میں کھانے کی اجازت آئی ہے۔
- مسئلہ بیان کرتے وقت اسی صورت کو سامنے رکھنا چاہیے جو حدیث میں آئی ہے۔
