صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۶ - شکار کے وقت بسم اللہ اور حلال گوشت
شکار کی حدیث: بسم اللہ، سدھایا ہوا کتا اور حلال شکار
صحیح بخاری : ۵۴۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۸۶
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي وَأُسَمِّي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَأَخَذَ فَقَتَلَ فَأَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ " ، قُلْتُ : إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي أَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ ، فَقَالَ : " لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ " ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ ؟ فَقَالَ : " إِذَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ ، وَإِذَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ " .
عدی بن حاتم روایت:
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں (شکار کے لیے) اپنا کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لیا ہو اور پھر وہ کتا شکار پکڑ کے مار ڈالے اور خود بھی کھا لے تو ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے خود اپنے لیے پکڑا ہے۔میں نے کہا کہ میں کتا شکار پر چھوڑتا ہوں لیکن اس کے ساتھ دوسرا کتا بھی مجھے ملتا ہے اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ کس نے شکار پکڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے دوسرے کتے پر نہیں پڑھی اور میں نے آپ سے بے پر کے تیر یا لکڑی سے شکار کا حکم پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر شکار نوک کی دھار سے مرا ہو تو کھا لیکن اگر تو نے اس کی چوڑائی سے اسے مارا ہے تو ایسا شکار بوجھ سے مرا ہے پس اسے نہ کھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع شکار کے آداب اور حلال شکار کی پہچان ہے۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ جب میں اپنا کتا شکار پر چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اگر کتا شکار پکڑ کر مار دے لیکن خود بھی کھا لے تو اسے نہ کھاؤ، کیونکہ اس نے گویا اپنے لیے پکڑا۔ اگر اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی مل جائے اور معلوم نہ ہو کہ شکار کس نے پکڑا ہے، تب بھی نہ کھاؤ، کیونکہ بسم اللہ اپنے کتے پر پڑھی گئی تھی۔ اسی طرح تیر یا لکڑی کے شکار میں نوک سے مرنا اور چوڑائی سے مرنا الگ حکم رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شکار پر کتا چھوڑتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔
- اگر کتا شکار میں سے کھا لے تو احتیاطاً وہ شکار نہیں کھایا جائے گا۔
- اگر دوسرا کتا شکار میں شریک ہو جائے تو شک کی وجہ سے اس شکار سے بچا جائے گا۔
- شکار کا آلہ اگر دھار سے مارے تو حکم الگ ہے، اور بوجھ سے مارے تو حکم الگ ہے۔
