صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۷ - سدھائے ہوئے کتے سے شکار کا حکم
سدھائے ہوئے کتے سے شکار: بسم اللہ اور حلال گوشت کا حکم
صحیح بخاری : ۵۴۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۸۷
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّا قَوْمٌ نَتَصَيَّدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ ؟ فَقَالَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ، إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِنْ خَالَطَهَا كَلْبٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ " .
عدی بن حاتم روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم اس قوم میں سکونت رکھتے ہیں جو ان کتوں سے شکار کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو تو اگر وہ کتا تمہارے لیے شکار لایا ہو تو تم اسے کھا سکتے ہو لیکن اگر کتے نے خود بھی کھا لیا ہو تو وہ شکار نہ کھاؤ کیونکہ اندیشہ ہے کہ اس نے وہ شکار خود اپنے لیے پکڑا ہے اور اگر اس کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی شکار میں شریک ہو جائے تو پھر شکار نہ کھاؤ۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں شکار کے بارے میں ایک بہت عملی سوال کا جواب ہے۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں لوگ کتوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لو، پھر وہ تمہارے لیے شکار لائے، تو اسے کھا سکتے ہو۔ لیکن اگر کتا خود بھی کھا لے تو اسے نہ کھاؤ، کیونکہ اندیشہ ہے کہ اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہو۔ اسی طرح اگر دوسرے کتوں میں سے کوئی کتا شکار میں شامل ہو جائے تو اسے نہ کھایا جائے۔ یہاں اصل بات بسم اللہ، تربیت یافتہ کتا اور شک سے بچنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سدھائے ہوئے کتے سے شکار کرتے وقت اللہ کا نام لینا چاہیے۔
- جو شکار کتا مالک کے لیے روک کر لائے وہ کھایا جا سکتا ہے۔
- اگر کتا خود کھا لے تو اس شکار سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- دوسرے کتے کی شمولیت شکار کے حکم کو مشتبہ بنا دیتی ہے۔
