صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۸ - اہل کتاب کے برتن اور شکار کا حکم

اہل کتاب کے برتن اور شکار کے احکام: ایک جامع حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۸۸

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ ، وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي ، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَالَّذِي لَيْسَ مُعَلَّمًا ، فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ مُعَلَّمًا فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ " .

ابوثعلبہ خشنی روایت:

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتن میں کھاتے ہیں اور ہم شکار کی زمین میں رہتے ہیں، جہاں میں اپنے تیر سے شکار کرتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے سے۔ تو اس میں سے کیا چیز ہمارے لیے جائز ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو اور ان کے برتن میں بھی کھاتے ہو تو اگر تمہیں ان کے برتنوں کے سوا دوسرے برتن مل جائیں تو ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ لیکن ان کے برتنوں کے سوا دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں دھو کر پھر ان میں کھاؤ اور تم نے شکار کی سر زمین کا ذکر کیا ہے تو جو شکار تم اپنے تیر سے مارو اور تیر چلاتے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے بلا سدھائے کتے سے کیا ہو اور اسے ذبح بھی خود ہی کیا ہو تو اسے بھی کھاؤ۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۸۸ کا خلاصہ

یہ حدیث دو اہم باتیں بتاتی ہے: اہل کتاب کے برتن کا استعمال اور شکار کا حکم۔ ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں، پھر شکار بھی کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان کے برتنوں کے علاوہ دوسرے برتن مل جائیں تو ان کے برتن استعمال نہ کرو۔ اگر دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں دھو کر استعمال کرو۔ شکار کے بارے میں فرمایا کہ تیر سے شکار کرو اور اللہ کا نام لو تو کھاؤ۔ سدھائے ہوئے کتے سے شکار کرو اور اللہ کا نام لو تو کھاؤ۔ غیر سدھائے کتے سے شکار ہو تو اگر تم اسے ذبح کر لو، پھر کھا سکتے ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دوسرا برتن مل جائے تو اہل کتاب کے برتن سے بچنا بہتر ہے۔
  • ضرورت ہو تو برتن دھو کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • تیر یا سدھائے ہوئے کتے سے شکار میں بسم اللہ کا حکم ہے۔
  • غیر سدھائے کتے کے شکار میں جانور کو خود ذبح کرنا شرط بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں