صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۳ - اللہ کی راہ میں صبح یا شام چلنے کی فضیلت
اللہ کی راہ میں صبح یا شام چلنا دنیا سے بہتر
صحیح مسلم : ۴۸۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۷۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں صبح کو یا شام کو چلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت مختصر مگر گہری بات فرمائی۔ اللہ کی راہ میں صبح کو یا شام کو چلنا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، سب سے بہتر ہے۔ حدیث کے الفاظ میں دنیا کی پوری کشش ایک طرف ہے، اور اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام کا نکلنا دوسری طرف۔ اس سے جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ حدیث اسی عمل کے بارے میں ہے جو واقعی اللہ کی راہ میں ہو۔ اس لیے اس کو نیت، اطاعت اور اللہ کے لیے نکلنے کے ساتھ سمجھنا درست ہے۔ سرچ کرنے والے اکثر اسے “غدوة في سبيل الله” یا “اللہ کی راہ میں صبح شام” کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں تھوڑا وقت بھی بہت بڑی قدر رکھتا ہے۔
- دنیا اور اس کی چیزیں اللہ کے راستے کے اجر کے مقابلے میں کم تر ہیں۔
- حدیث میں صبح یا شام کے مختصر سفر کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- اصل فضیلت اسی عمل کی ہے جو اللہ کی راہ میں ہو۔
