صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۲ - اعمال کے درجے اور قرآنی فیصلہ

اعمال کی فضیلت کا فیصلہ: حدیث اور آیت کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۷۲

وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي تَوْبَةَ .

نعمان بن بشیر روایت:

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس تھا۔ باقی حدیث ابی توبہ کی حدیث کی طرح ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۲ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کی طرح ہے، اس لیے اس کا موضوع بھی اعمال کے درجے ہیں۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس تھے، جہاں حاجیوں کو پانی پلانے، مسجد حرام کی مرمت، اور اللہ کی راہ میں جہاد کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ پھر وہی مضمون آیا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی، جس میں ان اعمال کو ایمان اور جہاد کے برابر سمجھنے کی نفی کی گئی۔ اس روایت میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نیک کاموں کے بارے میں اپنی رائے سے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ جب نص آ جائے تو مسلمان اسی کو اصل معیار بناتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مضبوط کرتی ہے۔
  • نیک اعمال میں فضیلت کا معیار اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے۔
  • حاجیوں کی خدمت اور مسجد حرام کی خدمت کا ذکر احترام سے آیا، مگر برابری کی نفی ہوئی۔
  • دینی اختلاف میں ادب اور سوال کا طریقہ اختیار کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں