صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۱ - حاجیوں کو پانی پلانا، مسجد حرام کی خدمت اور جہاد
حاجیوں کو پانی پلانا، مسجد حرام کی خدمت اور جہاد کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۷۱
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أُسْقِيَ الْحَاجَّ ، وَقَالَ آخَرُ : مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَقَالَ آخَرُ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ ، وَقَالَ : " لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ سورة التوبة آية 19 الْآيَةَ إِلَى آخِرِهَا ،
نعمان بن بشیر روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا تھا۔ ایک شخص بولا مجھے پرواہ نہیں مسلمان ہونے کے بعد کسی عمل کی جب میں پانی پلاؤں گا حاجیوں کو۔ دوسرا بولا مجھے کیا پرواہ کسی عمل کی اسلام کے بعد میں تو مسجد حرام کی مرمت کرتا ہوں۔ تیسرا بولا ان چیزوں سے تو جہاد افضل ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے سامنے جمعہ کے دن مت پکارو لیکن میں جمعہ کی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا۔اس بات کو جس میں تم نے اختلاف کیا تب اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری، «أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ» یعنی ”کیا تم نے حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا ایمان اور جہاد کے برابر کر دیا ہرگز نہیں اللہ کے سامنے برابر نہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں چند اعمال کے بارے میں گفتگو نقل ہوئی ہے۔ ایک شخص نے حاجیوں کو پانی پلانے کو کافی سمجھا، دوسرے نے مسجد حرام کی خدمت کو، اور تیسرے نے کہا کہ اللہ کی راہ میں جہاد ان سے افضل ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر نبوی کے پاس جمعہ کے دن آواز بلند کرنے سے روکا اور کہا کہ نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی جس میں حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی خدمت کو ایمان اور اللہ کی راہ میں جہاد کے برابر قرار دینے کی نفی آئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال کے درجے اللہ کے حکم سے سمجھے جاتے ہیں، صرف ذاتی اندازے سے نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک اعمال کے درجے اللہ کے حکم سے متعین ہوتے ہیں۔
- منبر نبوی کے پاس آواز بلند کرنے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے روکا۔
- حاجیوں کی خدمت اور مسجد حرام کی خدمت نیک کام ہیں، مگر آیت میں ایمان اور جہاد کا الگ مقام بیان ہوا۔
- اختلافی بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لینے کا طریقہ دکھایا گیا۔
