صحیح بخاری حدیث ۵۴۹ - انس رضی اللہ عنہ کا عصر کا معمول
انس رضی اللہ عنہ کی روایت: عصر کی نماز کا نبوی وقت
صحیح بخاری : ۵۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۹
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ ، يَقُولُ : " صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَقُلْتُ : يَا عَمِّ ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ ؟ قَالَ : الْعَصْرُ ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ " .
ابوامامہ روایت:
ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر ہم نکل کر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا آپ نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ اے مکرم چچا! یہ کون سی نماز آپ نے پڑھی ہے۔ فرمایا کہ عصر کی اور اسی وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہ نماز پڑھتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو امامہ بن سہل بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر پڑھی، پھر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہیں نماز پڑھتے پایا۔ پوچھا گیا کہ یہ کون سی نماز ہے؟ انہوں نے فرمایا: عصر، اور یہی وہ نماز ہے جو ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ اسی وقت پڑھتے تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع عصر کی نماز کا وقت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل کو نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ پڑھی گئی نماز سے جوڑا، اس لیے یہ حدیث سنت کے عملی تسلسل کو دکھاتی ہے۔ اس میں کسی لمبی بحث کے بجائے سادہ پیغام ہے کہ صحابہ اپنے نماز کے اوقات کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے معمول سے پہچانتے تھے۔ عصر کا وقت، صحابی کا عمل، اور نماز کی پابندی اس روایت کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت انس رضی اللہ عنہ نے عصر کے وقت کو نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے جوڑا۔
- صحابہ نماز کے اوقات کو اپنے مشاہدہ شدہ معمول سے بیان کرتے تھے۔
- حدیث میں ظہر کے بعد عصر کا واقعہ نقل ہوا ہے۔
- نماز کا وقت سمجھنے میں صحابہ کا عمل ایک واضح رہنمائی ہے۔
