صحیح بخاری حدیث ۵۵۰ - عصر کے بعد بھی سورج بلند
عصر کی نماز کا وقت: سورج بلند اور روشن رہتا تھا
صحیح بخاری : ۵۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۰
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي ، فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنْ الْمَدِينَةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ أَوْ نَحْوِهِ ".
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو سورج بلند اور تیز روشن ہوتا تھا۔ پھر ایک شخص مدینہ کے بالائی علاقہ کی طرف جاتا وہاں پہنچنے کے بعد بھی سورج بلند رہتا تھا (زہری نے کہا کہ) مدینہ کے بالائی علاقہ کے بعض مقامات تقریباً چار میل پر یا کچھ ایسے ہی واقع ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۰ کا خلاصہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے جب سورج بلند اور روشن ہوتا تھا۔ پھر کوئی شخص مدینہ کے بالائی علاقے کی طرف جاتا، اور وہاں پہنچنے کے بعد بھی سورج بلند رہتا۔ زہری رحمہ اللہ نے یہ بھی بتایا کہ ان بالائی علاقوں میں سے بعض مدینہ سے تقریباً چار میل یا اس کے قریب تھے۔ اس روایت سے عصر کی نماز کے وقت کی بہت واضح تصویر ملتی ہے: نماز اتنی جلدی ادا ہوتی کہ اس کے بعد سفر یا پیدل جانا ممکن تھا اور سورج پھر بھی روشن رہتا۔ یہاں اصل بات عصر کے وقت کی وضاحت ہے۔ حدیث میں عصر کی نماز، سورج بلند ہونا، مدینہ کے عوالی، اور نماز کے اوقات کے بارے میں سادہ عملی رہنمائی موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عصر کی نماز ایسے وقت ادا ہوتی تھی جب سورج ابھی بلند تھا۔
- نماز کے بعد مدینہ کے بالائی علاقوں تک جانے کا وقت باقی رہتا تھا۔
- روایت میں بعض علاقوں کا فاصلہ تقریباً چار میل بتایا گیا ہے۔
- عصر کے وقت کو دھوپ اور سفر کے مشاہدے سے سمجھایا گیا ہے۔
