صحیح بخاری حدیث ۵۵ - اہل و عیال پر خرچ بھی صدقہ

اہل و عیال پر خرچ ثواب کی نیت سے صدقہ ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا،` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آدمی ثواب کی نیت سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے پس وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع نیت اور گھر والوں پر خرچ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدمی ثواب کی نیت سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ یہاں روزمرہ کے ایک عام کام کو نیت کے ساتھ عبادت کا رنگ دیا گیا ہے۔ گھر کا خرچ، کھانا، ضروریات اور اہل و عیال کی دیکھ بھال عام طور پر دنیاوی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، مگر حدیث بتاتی ہے کہ اگر انسان اللہ سے اجر کی امید رکھے تو یہ خرچ بھی صدقہ بن جاتا ہے۔ اس میں کوئی لمبی بات نہیں، بس نیت درست ہونی چاہیے۔ اہل و عیال پر خرچ، صدقہ، ثواب کی نیت اور گھر کی ذمہ داری اس حدیث کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھر والوں پر خرچ ثواب کی نیت سے صدقہ بن سکتا ہے۔
  • عام گھریلو ذمہ داری بھی نیت سے اجر والی بن جاتی ہے۔
  • اہل و عیال کی ضروریات کا خیال رکھنا پسندیدہ عمل ہے۔
  • خرچ کرتے وقت اللہ سے اجر کی امید رکھنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں