صحیح بخاری حدیث ۵۶ - اللہ کی رضا کے لیے خرچ
اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا جائے تو اجر ملتا ہے
صحیح بخاری : ۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فَمِ امْرَأَتِكَ " .
سعد بن ابی وقاص روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک تو جو کچھ خرچ کرے اور اس سے تیری نیت اللہ کی رضا حاصل کرنی ہو تو تجھ کو اس کا ثواب ملے گا۔ یہاں تک کہ اس پر بھی جو تو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نیت اور خرچ کا بہت پیارا سبق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جو بھی خرچ کرو اور اس سے تمہاری نیت اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو، تو تمہیں اس پر اجر ملے گا، یہاں تک کہ وہ چیز بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے لیے خرچ صرف بڑے صدقات تک محدود نہیں۔ گھر کے اندر محبت سے کیا گیا خرچ بھی اجر کا ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ نیت اللہ کی رضا ہو۔ یہ حدیث انسان کو سکھاتی ہے کہ روزمرہ کے کاموں میں بھی نیت کو اچھا بنایا جائے۔ اللہ کی رضا، خرچ کا اجر، بیوی پر خرچ اور نیت کی درستگی اس روایت کے بڑے موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا خرچ اجر کا سبب ہے۔
- بیوی پر خرچ بھی نیک نیت سے اجر والا عمل بن سکتا ہے۔
- نیت عام خرچ کو بھی ثواب والا بنا دیتی ہے۔
- گھر کے اندر کی ذمہ داری کو بھی دین سے جوڑا جا سکتا ہے۔
