صحیح بخاری حدیث ۵۷ - نماز، زکوٰۃ اور خیرخواہی کی بیعت

ہر مسلمان کی خیرخواہی بھی دین کا حصہ ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .

جریر بن عبداللہ بجلی روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع بیعت، نماز، زکوٰۃ اور خیرخواہی ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے پر بیعت کی۔ یہاں عبادت اور معاشرت دونوں کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ نماز انسان کا اللہ سے تعلق مضبوط کرتی ہے، زکوٰۃ مال کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے، اور مسلمان کی خیرخواہی انسان کے اخلاق اور تعلقات کو درست رکھتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین صرف انفرادی عبادت نہیں، بلکہ دوسرے مسلمانوں کے لیے بھلائی چاہنا بھی اس میں شامل ہے۔ نماز، زکوٰۃ، نصیحت، خیرخواہی اور بیعت اس روایت کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز قائم کرنا بیعت کی شرطوں میں ذکر ہوا ہے۔
  • زکوٰۃ ادا کرنا دین کی اہم ذمہ داری ہے۔
  • ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنا دینی اخلاق کا حصہ ہے۔
  • عبادت کے ساتھ لوگوں کے حقوق کا خیال بھی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں