صحیح بخاری حدیث ۵۵۷ - امت محمدیہ پر اللہ کا فضل
قرآن اور امت کا اجر: عصر سے مغرب تک والی مثال
صحیح بخاری : ۵۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ ، أُوتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، ثُمَّ أُوتِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، ثُمَّ أُوتِينَا الْقُرْآنَ فَعَمِلْنَا إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ فَأُعْطِينَا قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ : أَيْ رَبَّنَا أَعْطَيْتَ هَؤُلَاءِ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ وَأَعْطَيْتَنَا قِيرَاطًا قِيرَاطًا وَنَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلًا ؟ قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَهُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تم سے پہلے کی امتوں کے مقابلہ میں تمہاری زندگی صرف اتنی ہے جتنا عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے۔ توراۃ والوں کو توراۃ دی گئی۔ تو انہوں نے اس پر (صبح سے) عمل کیا۔ آدھے دن تک پھر وہ عاجز آ گئے، کام پورا نہ کر سکے، ان لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ ایک ایک قیراط دیا گیا۔پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی، انہوں نے (آدھے دن سے) عصر تک اس پر عمل کیا، اور وہ بھی عاجز آ گئے۔ ان کو بھی ایک ایک قیراط ان کے عمل کا بدلہ دیا گیا۔ پھر (عصر کے وقت) ہم کو قرآن ملا۔ ہم نے اس پر سورج کے غروب ہونے تک عمل کیا (اور کام پورا کر دیا) ہمیں دو دو قیراط ثواب ملا۔اس پر ان دونوں کتاب والوں نے کہا۔ اے ہمارے پروردگار! انہیں تو آپ نے دو دو قیراط دئیے اور ہمیں صرف ایک ایک قیراط۔ حالانکہ عمل ہم نے ان سے زیادہ کیا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا، تو کیا میں نے اجر دینے میں تم پر کچھ ظلم کیا۔ انہوں نے عرض کی کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ (زیادہ اجر دینا) میرا فضل ہے جسے میں چاہوں دے سکتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امتوں کے زمانے اور عمل کی ایک مثال بیان فرمائی۔ فرمایا کہ تمہاری مدت پچھلی امتوں کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت۔ تورات والوں نے آدھے دن تک عمل کیا پھر عاجز آ گئے، انہیں ایک ایک قیراط ملا۔ انجیل والوں نے عصر تک عمل کیا، انہیں بھی ایک ایک قیراط ملا۔ پھر مسلمانوں کو قرآن ملا، انہوں نے سورج کے غروب تک عمل کیا، تو انہیں دو دو قیراط دیے گئے۔ جب اہل کتاب نے پوچھا کہ ہمیں کم اور انہیں زیادہ کیوں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہارے اجر میں ظلم کیا؟ انہوں نے کہا نہیں۔ فرمایا: یہ میرا فضل ہے، جسے چاہوں دوں۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام اللہ کا فضل، قرآن کی نعمت اور امت محمدیہ کا خاص اجر ہے، مگر یہ سب حدیث کے بیان کردہ مثال ہی کے اندر سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جسے چاہے زیادہ اجر دے سکتا ہے۔
- حدیث میں تورات، انجیل اور قرآن والوں کی مثال بیان ہوئی ہے۔
- زیادہ اجر ملنا ظلم نہیں، بلکہ اللہ کا فضل بتایا گیا ہے۔
- مسلمانوں کو قرآن پر عمل کی نسبت سے دو قیراط اجر کی مثال دی گئی۔
