صحیح بخاری حدیث ۵۵۷۰ - قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ
قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی وضاحت
صحیح بخاری : ۵۵۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۷۰
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : الضَّحِيَّةُ كُنَّا نُمَلِّحُ مِنْهُ فَنَقْدَمُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " لَا تَأْكُلُوا إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيْسَتْ بِعَزِيمَةٍ وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ مِنْهُ " وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
عائشہ روایت:
مدینہ میں ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا کرو۔ یہ حکم ضروری نہیں تھا بلکہ آپ کا منشا یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت (ان لوگوں کو بھی جن کے یہاں قربانی نہ ہوئی ہو) کھلائیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا قربانی کے گوشت کے بارے میں ایک اہم بات بتاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مدینہ میں قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھ دیا جاتا تھا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کیا جاتا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا کرو۔ اسی روایت میں یہ بھی صاف آتا ہے کہ یہ حکم لازم پابندی کے طور پر نہیں تھا، بلکہ مقصد یہ تھا کہ اس گوشت میں سے دوسروں کو بھی کھلایا جائے۔ اس حدیث سے قربانی کا اجتماعی پہلو سمجھ آتا ہے۔ قربانی کا گوشت صرف گھر میں محفوظ کرنے کی چیز نہیں، بلکہ اس سے دوسرے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچانا چاہیے۔ متن کے آخر میں اللہ زیادہ جاننے والا ہے کا جملہ بھی احتیاط سکھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی کا گوشت نمک لگا کر محفوظ کیا جاتا تھا۔
- تین دن والی بات لازم پابندی کے طور پر نہیں بتائی گئی۔
- قربانی کے گوشت میں دوسروں کو کھلانے کا پہلو موجود ہے۔
- دینی بات بیان کرتے ہوئے احتیاط اور اللہ کے علم کا اقرار کرنا اچھا انداز ہے۔
