صحیح بخاری حدیث ۵۵۶۹ - قربانی کا گوشت کھاؤ کھلاؤ اور محفوظ کرو
قربانی کا گوشت کھانے، کھلانے اور جمع کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۵۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۶۹
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ ، وَبَقِيَ فِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِي ، قَالَ : " كُلُوا ، وَأَطْعِمُوا ، وَادَّخِرُوا ، فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا " .
سلمہ بن الاکوع روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے کے حکم کی وجہ صاف بیان ہوئی ہے۔ پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو قربانی کرے، تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ باقی نہ رہے۔ اگلے سال صحابہ نے پوچھا کہ کیا اس سال بھی وہی کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پھر وجہ بتائی کہ پچھلے سال لوگ تنگی میں تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگ ان کی مدد کریں۔ اس حدیث کا پیغام بہت واضح ہے: قربانی کا گوشت صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کو کھلانے کے لیے بھی ہے۔ ساتھ ہی، جب پابندی کسی خاص ضرورت کی وجہ سے ہو تو اس کی وجہ بھی سمجھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی کا گوشت خود کھانا، دوسروں کو کھلانا اور محفوظ کرنا جائز بتایا گیا۔
- پہلے تین دن والی پابندی لوگوں کی تنگی کے سبب تھی۔
- قربانی میں ضرورت مندوں کا خیال رکھنا حدیث کے متن سے ظاہر ہے۔
- صحابہ کرام حکم کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے۔
