صحیح بخاری حدیث ۵۵۶۸ - قربانی کے گوشت کے حکم میں تبدیلی
قربانی کے گوشت کا حکم بدلنے پر صحابہ کا محتاط رویہ
صحیح بخاری : ۵۵۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۶۸
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ : أَنَّ ابْنَ خَبَّابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّه سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ يُحَدِّثُ : " أَنَّهُ كَانَ غَائِبًا فَقَدِمَ ، فَقُدِّمَ إِلَيْهِ لَحْمٌ ، قَالُوا : هَذَا مِنْ لَحْمِ ضَحَايَانَا ، فَقَالَ : أَخِّرُوهُ ، لَا أَذُوقُهُ ، قَالَ : ثُمَّ قُمْتُ فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِيَ أَخِي أَبَا قَتَادَةَ ، وَكَانَ أَخَاهُ لِأُمِّهِ ، وَكَانَ بَدْرِيًّا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ " .
ابوسعید روایت:
وہ سفر میں تھے جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت لایا گیا۔ کہا گیا کہ یہ ہماری قربانی کا گوشت ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے ہٹاؤ میں اسے نہیں چکھوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اٹھ گیا اور گھر سے باہر نکل کر اپنے بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ ماں کی طرف سے ان کے بھائی تھے اور بدر کی لڑائی میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ تمہارے بعد حکم بدل گیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع قربانی کے گوشت کا حکم اور صحابہ کا احتیاط والا انداز ہے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ سفر سے واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت پیش کیا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ قربانی کا گوشت ہے۔ انہوں نے پہلے اسے کھانے سے انکار کیا، کیونکہ ان کے علم میں پچھلا حکم تھا۔ پھر وہ اپنے بھائی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور مسئلہ پوچھا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ تمہارے بعد حکم بدل گیا ہے۔ اس حدیث میں یہ بات صاف ہے کہ صحابہ کرام دینی احکام میں اپنی رائے سے فیصلہ نہیں کرتے تھے، بلکہ جس بات کا علم نہ ہوتا اسے پوچھتے تھے۔ قربانی کا گوشت کھانے، رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں حکم کی تبدیلی کو بھی انہوں نے علم والے صحابی سے سمجھا۔ یہ ایک سادہ مگر بہت اہم دینی طریقہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی مسئلے میں شک ہو تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
- صحابہ کرام حکم معلوم ہونے تک احتیاط کرتے تھے۔
- قربانی کے گوشت کے بارے میں پہلے حکم کے بعد تبدیلی آئی۔
- نیا صحیح حکم معلوم ہو جائے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔
